انسانی جسم کے وہ حصے جو بظاہر چھوٹے یا غیر اہم لگتے ہیں، اکثر اوقات نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے “ناف”۔ یہ پیٹ کے بیچوں بیچ واقع ایک چھوٹا سا گڑھا ہے، جسے عام زبان میں “بیلی بٹن” بھی کہا جاتا ہے۔ اردو اور فارسی ادب، طب، روحانیات اور روزمرہ محاورات میں ناف کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ یہ مضمون “ناف” سے متعلق مکمل اور دلچسپ معلومات پیش کرتا ہے۔
ناف انسان کے جسم پر وہ مقام ہے جہاں جنینی مرحلے میں ماں کے رحم میں بچے کو خوراک اور آکسیجن فراہم کرنے والی “نال” (Umbilical Cord) جڑی ہوتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر نال کو کاٹ دیتے ہیں، اور یہی کٹا ہوا حصہ سکھ کر “ناف” کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ناف دراصل جلد اور ٹشوز کا ایک گڑھا ہوتا ہے، جس کے اندر کوئی ہڈی یا اندرونی عضو موجود نہیں ہوتا۔ اس کی شکل اور گہرائی ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کی ناف اندر کی طرف دبی ہوتی ہے (Innie) جبکہ کچھ کی باہر کو نکلی ہوتی ہے (Outie)۔
ناف سے متعلق کئی طبی مسائل بھی ہو سکتے ہیں، جیسے:
ناف پر مختلف تیل لگانے کا عمل بہت پرانا ہے۔ اسے “پیپل تھراپی” یا “نب تھیراپی” بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم طب میں مانا جاتا ہے کہ ناف جسم کے مختلف حصوں سے جڑی ہوئی ہے، اور اس پر تیل لگانے سے مختلف مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
یہ تیل ناف میں تین سے پانچ قطرے روزانہ رات سونے سے پہلے ڈالے جاتے ہیں۔
ہندو، چینی اور صوفی روایات میں ناف کو جسم کا “مرکزِ توانائی” (Energy Center) سمجھا جاتا ہے۔ یوگا میں اسے “نابھی چکرہ” کہا جاتا ہے، جو انسانی جسم کے سات چکروں میں سے ایک اہم چکر ہے۔
کچھ صوفی سلسلوں میں ناف کو “قلب” یا “باطن” سے جوڑا جاتا ہے۔ بعض درویش اور صوفی ناف کے مقام پر دھیان لگا کر روحانی ترقی کے مدارج طے کرتے ہیں۔
اردو شاعری میں ناف کا ذکر اکثر جسمانی حسن کے بیان میں ہوتا ہے:
زلفیں، سینہ، ناف، کمر — سب حسن کا اک بیان ہے
شاعر یہاں ناف کو جسم کی خوبصورتی اور جاذبیت کی علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
اردو زبان میں کئی محاورے ناف سے متعلق ہیں:
اسلامی تعلیمات میں ناف کے مقام پر براہ راست زیادہ گفتگو نہیں کی گئی، لیکن طہارت (صفائی) کے معاملے میں اسے جسم کا حصہ تصور کیا گیا ہے۔ وضو اور غسل کے احکامات میں ناف کو دھونا ضروری ہے۔
بعض علما اور شعرا کعبہ کو “نافِ ارض” (زمین کی ناف) کہتے ہیں، کیونکہ یہ زمین کا مرکز اور روحانیت کا محور مانا جاتا ہے:
کعبہ ہے نافِ ارض، یہاں سے سب کچھ شروع ہوتا ہے۔
ماہرینِ حیاتیات (biologists) مانتے ہیں کہ ناف وہ مقام ہے جو ماں اور بچے کے تعلق کا پہلا نشان ہے۔ اسی نال کے ذریعے بچے کا DNA ماں سے جُڑتا ہے اور اُسے نشوونما حاصل ہوتی ہے۔
کچھ لوگ اپنے جسم کو خوبصورت بنانے کے لیے “ناف کی سرجری” کرواتے ہیں، جسے Umbilicoplasty کہتے ہیں۔ یہ سرجری ناف کی شکل بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔
ناف ایک چھوٹا سا جسمانی نشان ہے، لیکن اس کی معنویت انسانی جسم، روحانیت، طب، ادب، ثقافت، اور سائنس میں انتہائی گہری ہے۔ چاہے وہ طبّی فائدے ہوں، روحانی مرکزیت، یا شاعری کا حسن، ناف ہر میدان میں اپنی جگہ رکھتی ہے۔ جدید سائنس بھی اب اس پر تحقیق کر رہی ہے کہ کیسے ناف کے ذریعے جسم کو متوازن رکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس بظاہر چھوٹے مگر حیرت انگیز حصے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی صفائی اور حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔